Results 1 to 7 of 7
  1. #1
    Junior Member
    Join Date
    Feb 2016
    Posts
    11

    Translation Exercises: Urdu to English

    Can any one translate the following Urdu passage into English?

    مرد اور عورت ایک ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ بلکہ ان ہی سے ایک معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ عورت اور مرد ایک گاڑی کے دو پہیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب تک اِن دونوں میں توازن نہ ہو گا کوئی بھی معاشرہ قابل قدر نہیں بن سکتا اور اُن کی زندگی کی گاڑی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔

  2. #2
    It can be translated this way.....

    Man and woman are part of the same society. In fact, a society comes into existence by them. Man and woman are like the two wheels of a cart. Unless there is a balance between them, no society can be respectable and their life can’t reach its destination.
    You are born with nothing but you will die with a name, and this name just not be a word, it should be a HISTORY...

  3. #3
    Junior Member
    Join Date
    Apr 2015
    Posts
    23

    Post Translation Exercise: Urdu to English

    بڑے آدمی میں وہی عام، سادہ اور چھوٹی چھوٹی خوبیاں ہوتی ہیں جن پر ہر شخص کا اختیار ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عام آدمی میں یہ خوبیاں ہوتی ہیں اور خاص آدمیوں میں ان خوبیوں کی روح اور اُن کا جوہر ہوتا ہے۔ قائدِ اعظم کی جانی پہچانی ذات میں کوئی بات ایسی نہ تھی جو سمجھ میں نہ آئے۔ شخصیت کے اعتبار سے وہ ایک سیدھے سادے آدمی تھے۔ اُن کی خاص خاص خوبیوں کی فہرست کچھ یوں بنے گ
    عزم، عمل، دیانت، خطابت اور خود داری۔


  4. #4
    A great man possesses the same common, simple and little qualities on which every person has control of. The difference is that a common man just has these qualities while exceptional ones possess the soul and spirit of the qualities. In the well-known personality of Quaid-e-Azam, there was nothing that couldn’t be understood. In his person, he was quite a simple man. The list of his distinctive qualities would be as follows: determination, work, honesty, speech and integrity.

  5. #5
    Junior Member
    Join Date
    Apr 2015
    Posts
    25

    Urdu to English translation excercises

    نسل انسانی سائنس اور اس کی ایجادات کی نہایت احسان مند ہے۔ گذشتہ دو سو سالوں کے دوران سائنس نے زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں عظیم انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ وقت اور خلا کی تسخیر ایک عظیم کارنامہ ہے۔ دنیا سکڑ کر چھوٹی سی رہ گئی ہے۔ وہ فاصلے جو ماضی میں مہینوں میں طے ہوتے تھے اب محض گھنٹوں میں طے کیے جا سکتے ہیں۔ ہم چاند کا سفر کر سکتے ہیں اور وہاں کی خاک کے نمونے لے کر زمین پر واپس آ سکتے ہیں۔ تیز رفتار ذرائع آمدورفت نے سفر کو ایک خوشگوار تجربہ بنا دیا ہے۔ یورپ یا امریکہ کا سفر ایک معمولی سی بات بن گیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ دوپہر کا کھانا لاہور میں کھائیں، رات کا لندن میں اور اگلی صبح ناشتہ نیویارک میں کریں۔ اگر ابن بطوطہ کو دوبارہ زندگی مل سکتی تو وہ موجودہ دنیا کو ماضی کے مقابلہ میں رہنے کے لیے زیادہ خوشگوار جگہ پاتا۔

  6. #6
    Junior Member
    Join Date
    Apr 2015
    Posts
    25
    نسل انسانی سائنس اور اس کی ایجادات کی نہایت احسان مند ہے۔ گذشتہ دو سو سالوں کے دوران سائنس نے زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں عظیم انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ وقت اور خلا کی تسخیر ایک عظیم کارنامہ ہے۔ دنیا سکڑ کر چھوٹی سی رہ گئی ہے۔ وہ فاصلے جو ماضی میں مہینوں میں طے ہوتے تھے اب محض گھنٹوں میں طے کیے جا سکتے ہیں۔ ہم چاند کا سفر کر سکتے ہیں اور وہاں کی خاک کے نمونے لے کر زمین پر واپس آ سکتے ہیں۔ تیز رفتار ذرائع آمدورفت نے سفر کو ایک خوشگوار تجربہ بنا دیا ہے۔ یورپ یا امریکہ کا سفر ایک معمولی سی بات بن گیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ دوپہر کا کھانا لاہور میں کھائیں، رات کا لندن میں اور اگلی صبح ناشتہ نیویارک میں کریں۔ اگر ابن بطوطہ کو دوبارہ زندگی مل سکتی تو وہ موجودہ دنیا کو ماضی کے مقابلہ میں رہنے کے لیے زیادہ خوشگوار جگہ پاتا
    Someone please translate it.....

  7. #7
    The human race is highly indebted to science and its inventions. During the past two hundred years, the science has brought a great revolution in nearly all aspects of life. Conquest of time and space is a remarkable achievement. The world has shrunk to a small place. The distances that were covered in months in the past, now, can be covered just in hours. We can travel to moon and take back to the earth the samples of its dust. High-speed modes of transportation have made traveling a pleasant experience. Travelling towards Europe of America has become a trivial thing. Now it is possible that you eat lunch in Lahore, dinner in London, and tomorrow’s breakfast in New York. If Ibn-e-Battuta could have had a second life, he would have found the present world easier to live in and more pleasant to travel on than in the past.

 

 

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •